گمنام محبت - نا ملنے والی محبت اور انجانی راہوں کا سفر

 گمنام محبت - ایک افسانہ

گمنام محبت - محبت کی انجانی راہوں کا سفر، گمنام محبت - نا ملنے والی محبت سے انجانی راہوں کا سفر
گمنام محبت - محبت کی انجانی راہوں کا سفر


سردیوں کی شام تھی اور اکرم دریا کے کنارے بیٹھا کچھ سوچنے میں گم تھا تیز ہوا سے اس کی توجہ میں کھلل آیا اس کی نظر سامنے والے کنارے پر پڑی اس کو محسوس ہوا کہ ایک کشتی اس کی طرف آ رہی ہے اس کی اب ساری توجہ اس کشتی پر تھی، کچھ دیر بعد وہ اس کے پاس روکی جس میں ایک لڑکی سوار تھی وہ اکرم کی طرف بڑھی اور پاس آکر کہنے لگی رات ہو رہی ہے اور بہت دور سے آئی ہوں میرا کوئی بھی نہیں ہے اگر آپ مجھے آج رات کے لیے پناہ دے دیں۔ اکرم تھوڑی دیر سوچنے کے بعد بولا ٹھیک ہے مگر میرے گھر میں میرے سوا اور کوئی نہیں رہتا اگر آپ روکنا چاہو مجھے کوئی اعتراز نہیں، لڑکی نے ہاں میں جواب دیا اور وہ دنوں گھر آ گئے، اکرم نے اسے کمرے میں بیٹھنے کو کہا اور پانی کا گلاس دیا اور باہر چلا گیا اور کچھ دیر بعد لکڑیاں لیے کر واپس آیا رات کا اندھیرا پھیل چکا تھا۔

کمرے میں لالٹینیں چلائی وہ لڑکی چارپائی پر سو رہی تھی۔ اکرم دریا کے کنارے اس گھر میں بلکل اکیلا ہی سادہ زندگی بسر کر رہا تھا ایک کمرہ اور چھوٹا سا صحن تھا، صحن میں ایک طرف چولہ تھا وہ جو لکڑیاں لیے کر آیا ان کو چولہے کے پاس رک کر کمرے سے چاول اور باقی سامان لینے گیا تو اس کی نظر اس لڑکی پر پڑی ایسا لگ رہا تھا کہ کسی مصیبت میں مبتلا ہے اکرم نے کھانے کا سامان لیا اور آگ جلا کر چاول ابالنے کے لیے رکھ دیئے اور دوسری طرف دال پکانے لگا۔

کھانا پکانے کے بعد اس نے دو برتوں میں ڈالا اور کمرے میں آگیا اس نے لڑکی کو آواز دی کہ کھانا کھا لیں مگر وہ نا جاگی، اکرم نے آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ اور آواز دی وہ اچانک سے ڈرے ہوئے انداز میں جاگی اور پلیٹ پکڑ کر کچھ سوچنے لگ گئی اکرم نے اسے کہا کھانا کھا لو اس کے بعد دنوں نے کھانا کھایا اور اس کے بعد اکرم آگ کے پاس آکر بیٹھ گیا تھوڑی دیر کے بعد وہ لڑکی بھی اس کے پاس آکر بیٹھ گئی اور بولی میرا نام صوفیہ ہے اور میں دہلی سے آئی ہوں میرا نا کوئی رشتہ دار ہے اور نا کوئی ٹھکانا ہے، مجھے ایسا لگتا ہے آپ کا بھی کوئی نہیں ہے مجھے آپ بہت اچھے انسان لگے ہیں اگر میں آپ کے ساتھ آپ کے گھر میں روک جاؤں آپ کا کھانا بھی بنا دوں گی اور دوسرے کاموں میں بھی ہاتھ بٹا دیا کروں گی۔

اکرم بولا آپ جب تک چاہو ٹھہر سکتی ہو یہ بات کر کے وہ کمرے میں اپنے بستر پر لیٹ گیا اور صوفیہ آگ کے پاس بیٹھی ہوئی کچھ سوچنے لگی، تھوڑی وہ کمرے میں آئی اور وہ دونوں سو گئے، اکرم دیر تک سونے کا عادی تھا اگلی صبح اس کی آنکھیں صوفیہ کی آواز سے گھلی وہ کہ رہی تھی جاگیں اور ناشتہ کر لیں، اکرم کی زندگی میں پہلا دن تھا جب اسے کسی نے صبح ناشتے کے لیے جگایا تھا وہ بہت عرصے سے اس اکلا زندگی بسر کر رہا تھا اس لیے اسے یہ کافی اچھا لگا۔ وہ جاگا اور ہاتھ منہ دھو کر دنوں نے ناشتہ کیا اس کی نظر صوفیہ کے چہرے پر پڑی وہ بہت ہی حسین و جمیل تھی اکرم کی نظر اس کے چہرے پر تھی اور بولا اگر آپ کو ہمیشہ کے لیے روکنے کا کہوں تو آپ کا کیا جواب ہو گا صوفیہ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا اور بولی جی بلکل۔

مزید پڑھیں- دوسرا عشقِ ایک سچی کہانی۔

اس کے دنوں دریا کے کنارے پر جا کر بیٹھ گئے اور دل کی باتیں کرنے لگے ان کو ادھر بیٹھے بیٹھےشام ہو گئی تب انہوں نے گھر واپس جانے کا فیصلہ کیا اور چل پڑے آج رات دونوں نے جی بھر کر باتیں کی اور فیصلہ کیا کہ کل صبح وہ نکاح کر لیں گے اس طرح سے دو الگ راستوں پر چلنے والے ایک رستے پر چل پڑے۔


Post a Comment

Previous Post Next Post